مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کوئی بھی اقدام اگر امریکہ کی ہم آہنگی سے ہوا تو اس کا موزوں اور سخت جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ تہران اپنی قومی سلامتی کے معاملے میں کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوگا۔ گزشتہ دس سے پندرہ برسوں کے تجربات اور حالیہ سات سے آٹھ ماہ کی امریکی پالیسیوں کے پیش نظر تہران کو محتاط رہنا ہوگا۔ دھمکیوں اور پابندیوں کے تسلسل کے باعث ایران کسی بھی سفارتی عمل میں غیر معمولی احتیاط برتے گا۔
علی لاریجانی کے مسقط اور بعد ازاں قطر کے دورے کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ یہ دورے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری کے علاقائی روابط کا تسلسل ہیں۔ انہوں نے اس سے قبل روس، پاکستان اور عراق کے دورے بھی کیے تھے۔ یہ سفارتی سرگرمیاں ایران کی ہمسایہ ممالک کے ساتھ حسن ہمسائیگی اور تعلقات کے استحکام کی اصولی پالیسی کا حصہ ہیں اور ان دوروں کی پیشگی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
بقائی نے کہا کہ آٹھ ماہ قبل مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچانے کے بعد توقع نہیں کی جاسکتی کہ ایران فوری طور پر تفصیلات بیان کرے۔ مسقط میں ہونے والی نصف روزہ نشست کا مقصد فریق مخالف کی سنجیدگی کو جانچنا اور آئندہ کے راستے کا تعین کرنا تھا۔ اس ملاقات میں زیادہ تر عمومی نکات زیر بحث آئے۔
امریکہ کی سنجیدگی کے بارے میں سوال پر بقائی نے کہا کہ ایران کے شکوک و شبہات کی بنیادی وجہ ماضی کا تجربہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی سفارتی عمل کا آغاز کرتے وقت سابقہ رویوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، خصوصا جب پابندیاں اور دھمکیاں جاری ہوں۔
انہوں نے زور دیا کہ ایران نے کبھی مذاکرات سے راہِ فرار اختیار نہیں کی۔ جب خطے میں نئی پیش رفت ہوئی اور ایران سے رابطے کیے گئے تو تہران نے ایک نئے سفارتی عمل کے امکان کو محسوس کیا تاہم یہ محض آغاز ہے اور اصل معیار فریق مقابل کی آئندہ کارکردگی ہوگی۔
آپ کا تبصرہ